Sunday, May 17, 2026

جادوگر اور شیطان کے درمیان معاہدہ

السلام علیکم 

جادوگر، عامل اور شیطان جنات کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ اس میں بہت سی باتیں جادوگر کو ماننی پڑتی ہیں، اس کے بغیر جادوگر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جادوگر اور شیطان کے درمیان جو معاہدہ (agreement) ہوتا ہے، اس کے مطابق جادوگر کو کچھ کفریہ کام کرنے ہوتے ہیں تاکہ شیطان اس کی مدد کرے۔ یہ کام وہ لوگوں کی نظروں سے چھپ چھپ کر کرتا ہے۔
شیطان کی طرف سے خدمات کی فراہمی
اس کے بدلے میں شیطان کو جادوگر کی خدمت کرنی پڑتی ہے یا کچھ خدمت گزار مہیا کرنے ہوتے ہیں، کیونکہ جس شیطان کے ساتھ جادوگر کا معاہدہ ہوتا ہے وہ جنوں اور شیطانوں کے کسی ایک قبیلے کا سردار ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے قبیلے کے کسی بیوقوف کو احکام جاری کرتا ہے کہ وہ اس جادوگر کا ساتھ دیں اور اس کی ہر بات تسلیم کریں۔
جادوگر کے برے کام اور جنات کا استعمال
وہ (جادوگر) واقعات کی خبر لانے کا کہے، یا دو لوگوں کے درمیان جدائی ڈالنے کو کہے، یا ان میں محبت پیدا کرنے کا حکم دے، یا خاوند کو بیوی سے الگ کرنے کا آرڈر جاری کر دے، اس طرح جادوگر اس جن کو اپنی پسند کے برے کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر جن اس کی نافرمانی کرے تو جادوگر اس کے قبیلے کے سردار سے رابطہ کرتا ہے اور اس جن کی شکایت سردار سے لگاتا ہے۔ سردار اس جن کو سزا دیتا ہے اور اس جادوگر کی خدمت کے لیے (نیا) خدمت گزار مہیا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگر کی خدمت کے لیے جن مہیا ہوتے ہیں جو اس کی خدمت کرتے ہیں۔
جادوگر کا انجام اور اندرونی دشمنی
ان جنات اور جادوگر میں بہت نفرت ہوتی ہے۔ یہ جن خود جادوگر کے گھر والوں کو پریشان رکھتا ہے اور جادوگر ہمیشہ سر درد اور بے خوابی (نیند نہ آنے) کا شکار رہتا ہے، اور رات کے وقت اس پر گھبراہٹ طاری ہوتی رہتی ہے۔ بلکہ گھٹیا قسم کے جادوگر تو اولاد سے محروم بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے خدمت گزار جن ان کی اولادوں کو ان کی ماں کے پیٹ میں ہی مار دیتے ہیں۔ یہ بات خود جادوگر اچھی طرح جانتے ہیں اور کئی جادوگر تو صرف اس لیے جادو کا پیشہ چھوڑ دیتے ہیں تاکہ ان کو اولاد کی نعمت عطا ہو۔

         عامل سونیم سے رابطہ

اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔

dua main yaad rakhya ga 
amel soname
amel_soname@yahoo.com


Friday, May 15, 2026

جادوگر کو پہچاننے کی نشانیاں

 السلام علیکم 

میں نے جو جادوگروں کے اندر مشترکہ چیزیں نوٹ کی ہیں وہ یہاں پر لکھ رہا ہوں تاکہ لوگوں کو جادوگر کے بارے میں اندازہ ہو۔ جادوگر کو پہچاننے کی کافی نشانیاں ہیں، جن میں سے کچھ آپ لوگوں کو بتاتا ہوں:

  • جادوگر بہت اکڑ کر چلتا ہے۔
  • جادوگر اپنے آپ کو سب سے بڑھ کر سمجھتا ہے کہ مجھ سے بڑا کوئی نہیں۔
  • جادوگر اپنے آپ کو یہ سمجھتا ہے کہ میرا مقابلے کا کوئی بھی نہیں، میں ہی سب سے بڑا ہوں۔
  • جادوگر اکثر اس طرح کے الفاظ بولتا ہے کہ "میرا کاٹا پانی نہ مانگے"، "میں جس جگہ سے گزر جاؤں وہ جگہ بنجر ہو جاتی ہے"، "جس کھیت سے گزر جاؤں فصل اجڑ جاتی ہے"، "جس طرح سانپ کے ڈسے سے بندہ نہیں بچ سکتا اس طرح میرے ڈسے سے بندہ نہیں بچ سکتا"۔
  • وہ کہتا ہے: "میں پیٹھ پیچھے وار کرتا ہوں منہ پر نہیں کرتا"، "میرا وار کبھی خالی نہیں جاتا"، "میں جس کے پیچھے لگ جاؤں وہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے"، "تم کو مجھ سے معافی مانگنی ہوگی"، "تم کو میرے پیروں میں آنا پڑے گا"، "تمہاری کمائی مولوی، ملا اور حکیم کھائیں گے"۔
  • اگر کوئی شخص جادوگر کو اللہ کی باتیں سنائے اور اس کو اللہ کے عذاب سے ڈرائے تو وہ ہنستا ہے اور کہتا ہے کہ "اللہ وغیرہ کچھ نہیں ہوتا"۔
  • جادوگر اللہ کے نام اور قرآن سے نفرت کرتا ہے۔
  • ایسا شخص جو پاخانہ یا پیشاب کھاتا ہو چھپ چھپ کر۔
  • جادوگر جانور کو بغیر بسم اللہ پڑھے ذبح کر دیتا ہے۔
  • جادوگر لوگوں پر اپنا غصہ بہت ظاہر کرتا ہے۔
  • جادوگر کی آنکھیں لال رہتی ہیں۔
  • جادوگر بے چین رہتا ہے۔
  • جادوگر پیسوں کا کتا ہوتا ہے، پیسوں کا دیوانہ ہوتا ہے اور بہت ہی لالچی ہوتا ہے۔
  • جادوگر شراب پیتا ہے۔
  • جادوگر عورتوں کو بڑے غور غور کر دیکھتا ہے اور ان کی شرمگاہوں پر اپنی نظر جماتا ہے اور عورتوں سے جنس (sex) کی بہت خواہش رکھتا ہے۔
  • اگر جادوگر کسی شخص سے بات کرے اور اس بندے کے سر کے اوپر دیکھے اور نظریں گھما گھما کر اشارے سے آنکھیں ہلائے، تو دیکھنے والا شخص فوراً سمجھ جائے کہ یہ جنات کو حکم دے رہا ہے۔ اس شخص سے آئندہ کنارہ کشی اختیار کریں۔
  • جادوگر ناپاک رہتا ہے۔
  • جادوگر روزے نہیں رکھتا۔
  • جادوگر کفریہ منتر پڑھتا ہے۔
  • جادوگر کسی بھی شخص سے اس کی ماں کا نام پوچھتا ہے بہانہ بنا بنا کر، تاکہ بعد میں وہ جادو کر سکے آسانی سے۔
  • جادوگر کبھی کوئی جانور طلب کرتا ہے اور اس کا خون مریض کے جسم پر لگاتا ہے۔
  • جادوگر جب کسی مریض کا علاج کرتا ہے تو اس کو حکم دیتا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے کسی ایسے کمرے میں چلا جاؤ جہاں پر سورج کی روشنی نہ آتی ہو۔ یہ وہ اس لیے کرتا ہے کیونکہ جادوگر رات کی تاریکی میں جادو کرتا ہے اور جادو اندھیرے میں کام کرتا ہے۔ روشنی میں جادو کا اثر کم ہو جاتا ہے اور جادو ٹوٹ جاتا ہے۔ اکثر سورج کی روشنی جادو کے اثر کو توڑ دیتی ہے کیونکہ اندھیرے کو اجالا کھا جاتا ہے۔
  • جادوگر مریض سے اس بات پر عمل کرنے کے لیے کہتا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔ یہ علامت اس بات کی ہے کہ یہ جادوگر جس جن سے مدد لے رہا ہے وہ عیسائی ہے۔
  • جادوگر لوگ اکثر قبرستان میں آتے جاتے رہتے ہیں۔
  • جادوگر نئے مردے کی قبر پر بڑے شوق سے جاتا ہے تاکہ اس کے ہمزاد کو قابو کر سکے۔
اگر آپ کو ان علامات میں سے کوئی علامت کسی شخص میں ملتی ہو اور یقین بھی ہو جائے کہ یہ جادوگر ہے، تو فوراً اس سے ملنا جلنا بند کر دیں۔ بغیر کسی لڑائی کے، آہستہ آہستہ خود ہی پیچھے ہٹ جائیں ایسے شخص سے ملنے سے۔

         عامل سونیم سے رابطہ

اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔

dua main yaad rakhya ga 
amel soname
amel_soname@yahoo.com



Monday, May 11, 2026

جادوگروں کے درجات

السلام علیکم

 "آج کل کے دورِ جدید میں بھی اس قسم کے لوگ بے تحاشہ پائے جاتے ہیں۔ بہت سے تو چھپے ہوئے ہیں اور کافی ظاہری بھی ہیں، لیکن یہ سانپ ہیں جن کا کام لوگوں کو ڈسنا اور تکلیف ہی پہنچانا ہے۔ بہرحال، ان کے درجوں کو میں بیان کر دیتا ہوں۔

"۱) چونکہ ہر کلام کے تحت سفلی اور روحانی موکلات ہوتے ہیں اور یہ جادوگر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے کن موکلات کو تسخیر کرے اور اپنے زیرِ اثر لائے اور ان سے جائز و ناجائز کام کروائے۔ یہ سب کچھ جادوگر کی اپنی ذاتی محنت، خود اعتمادی، قوتِ ارادی اور کسی کامل استاد کی زیرِ نگرانی مشقت پر منحصر ہے۔
"ایسا جادوگر جو ارواحِ خبیثہ کو مسخر کر کے اپنے کام میں لاتا ہے، یہ ارواحِ خبیثہ جادوگر کے حکم پر کسی کے گھر، مقام یا کسی بھی جگہ پر اپنا ڈیرہ جما لیتی ہیں اور اس جگہ کے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچاتی ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اس جادوگر کے کہنے پر (ان کو) تنگ اور پریشان کرتے ہیں، اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے ہیں اور ان سے جادوگر اپنا کام کرواتا ہے۔ چونکہ ارواحِ خبیثہ غیر مرئی مخلوق ہیں اور یہ سوائے ایک زبردست جادوگر کے کسی کو نظر بھی نہیں آتیں، اس لیے انسان ان کے ہاتھوں بے حد پریشان ہوتا ہے اور اس کی سمجھ میں یہ بات ٹھیک طور پر نہیں آتی کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے، کہ میرے ساتھ بلاوجہ اور کسی بھی ظاہری علامت کے کیا ہو رہا ہے؟ ارواحِ خبیثہ کا کام ہر معاملے کو الٹ پلٹ کرنا، کھانے پینے کی اشیاء کو ناپاک کرنا اور اس میں گندگی ملانا، گھر میں بدبو، خون کے چھینٹے اور پلیدی پھیلانا، اور ہر وہ کام کرنا ہے جو شرعی طور پر غلط ہو۔"
"اگرچہ یہ ارواحِ خبیثہ مسخر ہونے میں جادوگر کو بے حد پریشان اور مشکلات سے دوچار کرتی ہیں، لیکن اگر اس جادوگر کا استاد بہت ہی بڑا کامل جادوگر ہو تو پھر ان مشکلات پر وہ حاوی ہو کر ان کو مسخر کر لیتا ہے اور پھر ان سے اپنی مرضی کا کام لیتا جاتا ہے۔ لیکن ایسے جادوگروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ اس مخلوق کو مسخر کرنے والا جادوگر اکثر ان سے دنیوی کاموں میں مدد لیتا ہے کیونکہ دینی کاموں سے اس مخلوق کو نفرت اور چِڑ آتی ہے اور یہ اس سے کوسوں دور خود بھی بھاگتی ہے، اس لیے اپنے جادوگر کو بھی اس سے کنارہ کشی کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر جادوگر اس مخلوق کو حکم بھی دے کہ دینی کام کرو تو یہ صاف منع کر دیتی ہیں۔ اس مخلوق کا جادوگر اکثر گندی جگہوں پر اپنا بسیرا کرتا ہے۔ اگر یہ جادوگر کسی کے خلاف ہو جائے تو اس کا جینا حرام کر دیتا ہے، اس مخلوق کے ذریعے اس کو نقصان پہنچاتا ہے، میاں بیوی میں نفرت اور دراڑ ڈال دیتا ہے، ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیتا ہے، گندے اور برے کاموں کی طرف راغب کرتا ہے، گھر کا نظام الٹ دیتا ہے، بچوں کو والدین سے باغی کر دیتا ہے، کاروبار میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے اور انسان عجیب قسم کی وحشت، دہشت اور انجانے خوف سے دوچار رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ان خرابیوں کی وجہ جلد سمجھ میں نہیں آتی اور اگر آ بھی جائے تو کسی سادہ عامل کے بس میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کا توڑ کسی کامل روحانی معالج کے ہاتھ سے ہوتا ہے جس کے پاس موکلات ہوں۔ جب اس مخلوق پر قرآنی کوڑا پوری زور سے پڑتا ہے تو یہ مخلوق اس جگہ کو چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے اور پھر اپنے جادوگر کے حکم کی نہ صرف خلاف ورزی کرتی ہے بلکہ اپنی جان کو پہنچنے والی اذیتوں کا بدلہ بھی اس جادوگر سے لیتی ہے اور بعض اوقات اس جادوگر کی جان لے کر ہی اس کا پیچھا چھوڑتی ہے۔ بہرحال، ایسی اشیاء کا علاج کسی بہت ہی ماہرانہ ہاتھوں سے کرانا چاہیے۔"
"۲۔ ان کے بعد ایسے جادوگروں کا گروہ آتا ہے جو پہلے سے کمتر درجے کا ہوتا ہے، اگرچہ انہوں نے بھی ارواحِ خبیثہ اور سفلی علم کا فن حاصل کیا ہوتا ہے لیکن ان کے نفس میں کسی بھی کام کو بغیر لالچ کے کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ اکثر ایسے جادوگر ہندوانہ دعوت پڑھتے ہیں اور ہنومان، کالکا دیوی اور نہ جانے کون کون سے دیوی دیوتاؤں کو تسخیر کر کے اپنا کام چلاتے ہیں۔ ان کے کاموں میں مسان ڈالنا اور میعادی کام کروانا ہوتا ہے۔ یہ جادوگر ایسی بد روح کو انسان پر مسلط کر دیتا ہے اور اس کی میعاد کے اندر اندر وہ روح اپنا کام کر کے واپس جادوگر کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ ان ارواح سے کسی کا ہنستا بستا گھر اجاڑا جاتا ہے۔
۳۔ اس کے بعد ایسے جادوگروں کا گروہ آتا ہے جو اپنے کلام کے تحت مذبح خانوں اور قربان گاہوں پر عمل کرتے ہیں اور ایسی مخلوق کو زیرِ علم کر لیتے ہیں جو ان سے سفلی عمل کا کام لیتی ہے۔ ایسی مخلوق جادوگر کے کہنے پر گھر میں خون کے چھینٹے لگاتی ہے، افرادِ خانہ کو اذیت اور تکلیف دیتی ہے اور ان کو ہر وقت ایک خاص قسم کے انجانے خوف اور ڈر سے دوچار کرتی ہے اور گھر کا سکون برباد کرتی ہے اور اس طرح انسان ہر وقت پریشان رہتا ہے۔ ایسا عامل بڑے سے بڑا برا کام کرتا ہے، ان کے ہاتھوں سے نہ ان کے ماں باپ اور نہ ہی بہن بھائی بچتے ہیں۔
"۴۔ ایسا جادوگر جس نے شوقیہ طور پر چھوٹے موٹے جنتر سیکھ رکھے ہوں اور ان کے تحت چھوٹے موٹے جن قابو میں ہوں اور ان جنوں کے ذریعے لوگوں کے رزق کو باندھتے ہیں، عورت اور مرد کو بانجھ کرتے ہیں، نکاح بند کرتے ہیں اور رکاوٹ ڈالتے ہیں اور بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔
۵۔ ایک اس طرح کا جادوگر ہوتا ہے جو جنات و شیاطین کی تسخیر کرتا ہے۔ یہ آسان عمل ہے جس کے تحت جناتوں کے بادشاہ آسان شرائط پر ان کے قابو آ جاتے ہیں اور پھر یہ ان جنات و شیاطین سے اپنی مرضی کے کام کرواتے ہیں۔ ان میں ہنومان، کالی ماتا، بھیرو، لونا چماری اور مختلف دیوی دیوتاؤں کے عمل کیے جاتے ہیں اور ان سے مختلف کام لیے جاتے ہیں۔
۶۔ سب سے بڑے جادوگر کلدانی جادو کے ماہر ہوتے ہیں۔ ایسا جادوگر پوری دنیا میں بہت ہی مشکل سے ملتا ہے۔ بڑے جادوگر اکثر ان سے بڑے بڑے کام جادو سے لیتے ہیں جس سے انسانیت کو انتہائی شرمناک حالات سے گزرنا پڑتا ہے اور ایسا انسان ہر وقت بیزار اور موت کا طلبگار رہتا ہے۔ ان میں سے اکثر کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح سانپ کا ڈسا بچ نہیں سکتا اسی طرح ان کا ڈسا ہوا بھی نہیں بچ سکتا۔ اگر ان کے کیے ہوئے عمل کا کسی اللہ کے کامل یا درویش سے توڑ نہ کرایا جائے تو انسان با مشکل ہی ان کے جادو سے بچ سکتا ہے۔ اگر یہ جادوگر کسی کے پیچھے پڑ جائے تو اچھے بھلے انسان کی پوری زندگی تباہ و برباد کر دیتا ہے۔"
"۷۔ ایک ایسا جادوگر ہوتا ہے جو چڑیل/ڈائن کی تسخیر کرتا ہے۔ چڑیل کو قابو کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ جب یہ آتی ہے تو اپنی بہت سے ناجائز اور حرام باتیں منوا کر ہی قابو آتی ہے۔ اس کے لیے ایسے جادوگر کو کئی معصوم بچوں کا قتل کر کے ان کا خون، دل اور کلیجہ اس کے حوالے کرنا ہوتا ہے اور ایک بار قابو ہونے کے بعد بھی اگر اس کی مطلوبہ قربانی پیش نہ کی جائے تو یہ جادوگر کا کام کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ اس کی صورت و شکل انتہائی بھیانک، لمبے لمبے بال جو ہر وقت اس کے منہ پر پڑے رہتے ہیں اور لمبے لمبے ناخن ہوتے ہیں اور اس کے پاؤں الٹی طرف ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ اسے 'پچھل پیری' کہتے ہیں۔
۸) ایک جادوگر اس طرح کا ہوتا ہے جو پرندوں یا کوئی بھی جانور، جنوں کی طرف سے بتائی گئی خاص شکل و صورت کے مطابق منگواتا ہے اور اس کا رنگ عام طور پر سیاہ ہوتا ہے کیونکہ جن سیاہ رنگ کو دوسرے رنگوں پر فوقیت دیتے ہیں۔ پھر وہ اسے بسم اللہ پڑھے بغیر ذبح کر دیتا ہے اور اس کا خون مریض کے جسم پر ملتا ہے اور پھر اس کو کھنڈرات یا کنویں یا غیر آباد جگہ پر پھینک دیتا ہے۔ چونکہ جنوں کا گھر غیر آباد جگہوں پر ہوتا ہے، جب یہ پھینکتا ہے تو بغیر بسم اللہ پڑھے پھینکتا ہے اور اپنے گھر چلا جاتا ہے اور پھر شرکیہ تعویذ لکھ کر جنوں کو احکام جاری کر دیتا ہے۔
"۹۔ یہ طریقہ جادوگروں میں انتہائی گھٹیا طریقہ ہے اور یہ بہت مشہور ہے۔ اس کے احکام پر عمل کرنے والوں کی شیطانوں کا ایک بہت بڑا گروہ مدد کرتا ہے۔ جادوگروں پر اللہ کی کروڑوں لعنتیں ہوں، (اللہ معاف فرمائے) وہ قرآن مجید کو جوتا بنا کر اپنے قدموں میں پہن لیتا ہے، پھر بیت الخلا میں جا کر کفریہ منتر پڑھتا ہے اور پھر باہر آ کر اپنے کمرے میں بیٹھ جاتا ہے اور جنوں کو احکام جاری کرتا ہے۔ چنانچہ جن بہت جلد اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حکم کو فوراً بجا لاتے ہیں، کیونکہ یہ کام کر کے جادوگر کافر بن چکا ہوتا ہے، اس لیے شیطان کا بھائی کافر ہے اور بھلا شیطان کافر کی کیوں نہ مدد کرے؟
۱۰۔ ایک اس طرح کا جادوگر ہوتا ہے جو قرآن مجید کی کوئی سورت (نعوذ باللہ) حیض کے خون یا کسی اور ناپاک چیز سے لکھتا ہے اور پھر شرکیہ منتر پڑھتا ہے، اس طرح جنوں کو اپنی فرمانبرداری کے لیے حاضر کر لیتا ہے اور جو چاہتا ہے انہیں حکم دیتا ہے۔
۱۱۔ ایک اس طرح کا جادوگر ہوتا ہے جو قرآن شریف کی سورتوں کے الٹے حروف بنا کر لکھتا ہے اور پھر شرکیہ تعویذ کر کے جنوں کو حاضر کرتا ہے اور پھر ان سے من پسند کام لیتا ہے۔
۱۲۔ جادوگر ستاروں کے نظریات میں جادو کرتے ہیں۔ جادوگر ایک خاص ستارے کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور جب وہ طلوع ہو جاتا ہے تو پھر اس کی طرف مخاطب ہوتے ہیں، پھر جادو والا ورد پڑھتے ہیں جس میں کفریہ شرائط موجود ہوتی ہیں۔ پھر چند ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ اس کے خیال کے مطابق ان حرکتوں سے اس ستارے کی برکات اس پر نازل ہوتی ہیں، حالانکہ وہ دراصل اس ستارے کی پوجا کر رہا ہوتا ہے۔ جب وہ غیر اللہ کی پوجا کرتا ہے تو شیطان اس کے کام کے لیے لبیک کہتا ہے اور جادوگر یہ سمجھتا ہے کہ اس ستارے نے میری مدد کی ہے، حالانکہ ستارے کو تو اس کی کسی حرکت کا علم ہی نہیں ہوتا۔
۱۳۔ جادوگر وہ ہوتا ہے جو (غلاظت) کھاتا ہے اور پیشاب پیتا ہے تاکہ اس کے جنتر منتر کام کریں اور وہ ہر وقت ناپاک رہتا ہے اور کفریہ کام کرتا ہے۔ اس طرح کا جادوگر پلیدی جادو کرنے کا ماہر ہوتا ہے۔ اگر کوئی اچھا بھلا شخص اپنی ترقی وغیرہ کے لیے یا کسی اور وجہ سے (جائز) عمل کر رہا ہو تو یہ اس پر پلیدی عمل کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ لوگوں کو اپنے گندے جادو سے ناپاک کر دیتا ہے، پھر اگر لوگ قرآن سے جادو کاٹنا بھی چاہیں تو جادو نہیں کٹتا کیونکہ قرآن پاکی میں کام کرتا ہے، قرآن ہرگز ناپاکی میں کام نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص ناپاک ہو اور وہ یہ چاہے کہ قرآن کی کسی سورت سے فائدہ اٹھا لے تو ہرگز قرآن کی سورتیں اس کو فائدہ نہیں دیں گی۔ اس وجہ سے لوگوں نے یہ بات بہت عام کر دی ہے کہ جادو قرآن سے نہیں کٹتا، اصل میں لوگوں کو اصل وجہ معلوم ہی نہیں ہے کہ قرآن کیوں ایسے لوگوں پر کام نہیں کرتا اور کیوں ان کا جادو نہیں کٹتا۔ اور بھی بہت طرح کے جادوگروں کی اقسام ہیں۔ جادوگر اس طرح کے کام چھپ چھپ کر کرتے ہیں اس لیے لوگوں کو اور دنیا کو ان کے بارے میں ٹھیک طرح سے پتا نہیں ہے۔ مجھے جتنا پتا تھا سو میں نے لکھ دیا۔

         عامل سونیم سے رابطہ

اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔

dua main yaad rakhya ga 
amel soname
amel_soname@yahoo.com



Sunday, May 10, 2026

جادو ٹونے اور طلسمات کا قرآنِ پاک سے توڑ

 
السلام علیکم
جادو ٹونے میں ایک جادو باقاعدہ طلسم کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک کاغذ پر ایسے عجیب و غریب حروف بنائے جاتے ہیں جو ایک عام انسان نہیں سمجھ پاتا، لیکن وہ حروف بے پناہ طاقت رکھتے ہیں اور انہی حروف سے جادو کر کے شکار (victim) کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

کبھی کبھی یہ طلسم بنا کر قبرستان میں کسی پرانی قبر میں گاڑ دیا جاتا ہے تو کبھی ان طلسمات کو جلایا جاتا ہے۔ یہ طلسم اتنا تیز کام کرتے ہیں جتنا کہ جادوگر کا عمل بھی کام نہیں کرتا۔ طلسم، عملیات اور تعویز کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ اگر طلسم کو استعمال کیا جائے تو وہ 5 منٹ کے اندر کام کرنا شروع کر دیتا ہے، یہ اتنا پاور فل ہوتا ہے۔
جیسا طلسم کیا گیا ہوگا، اس کی علامات بھی ویسی ہی ہوں گی۔ مثلاً جادوگر ہر طرح کا طلسم کر سکتا ہے، جیسے ملازمت (job) پر بندش لگانا، بیمار کرنا، پریشان کرنا یا خواب بند کرنا وغیرہ وغیرہ۔
علامات یہ ہیں:
۱. اگر طلسم بیماری کے لیے کیا گیا ہے تو انسان بیمار ہو جائے گا، چہرہ کالا پڑنا، سر میں درد، سینہ بھاری ہونا، جسم میں تکلیف اور جسم سے آگ (تپش) نکلنا وغیرہ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
۲. اگر کاموں میں بندش کے لیے طلسم کیا گیا ہے تو کام رک جائیں گے، بنتے بنتے کام بگڑ جائیں گے، ہر کام میں رکاوٹ آئے گی اور دن بدن نقصان (lose) ہوتا جائے گا۔
۳. اگر طلسم شادی کی بندش کے لیے کیا گیا ہے تو مزاج میں چڑچڑا پن، شادی سے نفرت ہونا اور تنہائی پسند کرنا وغیرہ جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
طلسمات کے توڑ کے لیے عمل یہ ہے:
۱. پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھیں۔
۲. روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد سورہ نساء پڑھیں۔
۳. روزانہ غسل کریں۔
۴. عشاء کی نماز کے بعد سورہ بنی اسرائیل پڑھیں۔
۵. اللہ کے نام کو ۱۰ منٹ تک (تصور میں یا سامنے رکھ کر) دیکھیں۔
ان شاء اللہ، طلسمات کا اثر کچھ ہی دنوں میں ختم ہو جائے گا۔

         عامل سونیم سے رابطہ

اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔

dua main yaad rakhya ga 
amel soname
amel_soname@yahoo.com



Friday, May 8, 2026

جادو کیا ہے؟

السلام علیکم

 جادو ٹونا، تعویذ گنڈا، کالا جادو یا بنگال کا جادو—یہ سب کیا ہے؟ اس چیز کو میں بہت اچھے سے سمجھانے کی کوشش کروں 

گا کہ یہ آخر ہے کیا؟

جادو ایک فن ہے، ایک آرٹ ہے، جس کو بہت ہی خاص لوگ استعمال کر سکتے ہیں۔ ہر کوئی اس فن کو استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی یہ ہر کسی کے بس کی بات ہے۔ یہ ایک بہت خطرناک فن ہے؛ اس سے خود جادو کرنے والے کی جان کو خطرہ ہوتا ہے اور جس پر جادو ہوتا ہے اس کی بھی جان کو خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بات جادو کرنے والے جادوگر کو اچھی طرح پتہ ہوتی ہے کہ اگر عمل الٹا ہو گیا تو اس کی جان بھی جا سکتی ہے۔
جادو ایک شیطانی عمل ہے۔ آپ لوگوں نے شیطان کے بارے میں کتابوں، قرآن اور احادیث میں سنا تو ہوگا کہ شیطان ہمارا دشمن ہے اور یہ ہمیں برباد کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے ہر کام کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے اور شیطان کا مقصد صرف تباہی و بربادی ہے۔ جادو مکمل طور پر شیطان کے اوپر منحصر (depend) کرتا ہے۔ اس میں شیطان کو راضی کرنا پڑتا ہے، تب جا کر شیطان جادوگر کا کام کرتا ہے۔ شیطان کو راضی کرنے کے لیے جادوگر کو بہت بہت برے کام کرنے پڑتے ہیں، جو آپ لوگوں کی سوچ سے بھی باہر ہیں۔ یا یوں سمجھ لیں کہ شیطان کو خوش کرنا پڑتا ہے تو وہ پھر جادوگر کی مدد کرتا ہے۔ اگر شیطان خوش نہ ہو یا راضی نہ ہو تو وہ جادوگر کی ہرگز مدد نہیں کرتا۔ جادوگر جو برے کام کرتا ہے وہ باقاعدہ میں تفصیل میں بتا چکا ہوں اپنی پوسٹ "جادوگر کے درجات" میں۔ یہ پوسٹ صرف جادو کے بارے میں ہے۔ شیطان کا مقصد تباہی و بربادی ہے اس لیے کالا جادو بھی تباہی و بربادی ہے، اس کے کرنے سے صرف تباہی و بربادی ہی آتی ہے۔
جادو کو لوگ کالے جادو کے نام سے کیوں جانتے ہیں، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ حالانکہ یہ ایک شیطانی عمل ہے اور جادو کوئی بھی ہو، چاہے سفید ہو یا کسی بھی رنگ کا، جادو تو جادو ہوتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جادو کو زیادہ تر لوگ "کالا جادو" کے نام سے کیوں جانتے ہیں؟
تقریباً تمام جتنے بھی جادوگر ہیں ان کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جادو رات کو بہت تیز کام کرتا ہے۔ تقریباً سارے ہی جادوگر رات کو اپنا جنتر منتر کرتے ہیں اور جتنے بھی دیوی دیوتاؤں کے منتر پڑھتے ہیں وہ رات کو پڑھتے ہیں۔ قبرستان بھی جادوگر رات ہی کو جاتا ہے کیونکہ رات کو یہ شیطانی قوتیں جلد اپنا اثر دکھاتی ہیں اور کام منٹوں میں ہوتا ہے۔ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جس کسی پر بھی یہ لوگ جادو کرتے ہیں، تو یہ لوگ زیادہ تر رات ہی کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ رات کو شکار (victim) سو رہا ہوتا ہے۔ سوتے ہوئے بندے پر جادو زیادہ اثر کرتا ہے اور اس کو معلوم بھی نہیں پڑتا کہ اس پر جادو کا حملہ ہوا۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شیطان کو سورج کی روشنی میں کام کرنے میں تھوڑی تکلیف ہوتی ہے، یا یوں سمجھ لیں کہ دن میں جادوگر اگر 100 فیصد جادو کرے گا تو اس کا جادو 100 فیصد چلنے کے بجائے 50 فیصد چلے گا، لیکن رات کو انہی جادوگروں کا جادو 100 فیصد چلتا ہے۔ اس لیے یہ لوگ جادو کرنے کے لیے رات کی تاریکی کا انتخاب کرتے ہیں۔ یا اگر یہ لوگ اپنے گھر میں بھی جادو کرتے ہیں تو بہت اندھیرا کر کے کرتے ہیں تاکہ جادو فوراً کام کرے۔ زیادہ تر جادو کالے کپڑے، کالی اشیاء یا کسی بھی کالی چیز پر کیا جاتا ہے کیونکہ کالی چیز پر جادو کرنے سے جادو بہت مضبوط (strong) ہوتا ہے۔ اس لیے یہ لوگ کالے رنگ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ جادو کو "کالا جادو" کے نام سے پکارتے ہیں۔

         عامل سونیم سے رابطہ

اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔

dua main yaad rakhya ga 
amel soname
amel_soname@yahoo.com


Thursday, May 7, 2026

اسلام میں جادو کرنا اور کروانا دونوں حرام ہیں۔

                                                                                                                        السلام علیکم 

مجھے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ کتنا آرام سے یہ سوچ لیتے ہیں کہ ہم فلاں پر کسی جادوگر سے کہہ کر جادو کروا دیں گے، حالانکہ یہ کتنا سنگین گناہ ہے۔

میں کچھ احادیث کے حوالے دیتا ہوں کہ اسلام میں جادو کرنا اور کروانا دونوں حرام ہیں۔
۱. سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ سات کام کون سے ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک دامن، مومن اور بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔"
۲. عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے فال نکالی یا جس کے لیے فال نکالی گئی، جس نے غیب کا دعویٰ کیا یا جو غیب کا دعویٰ کرنے والے (کاہن) کے پاس گیا، یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا۔ اور جو شخص کسی نجومی کے پاس آیا اور وہ جو کچھ کہتا ہے اس کی تصدیق کر دی، تو اس نے اس شریعت کا انکار (کفر) کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔"

         عامل سونیم سے رابطہ

اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔


dua main yaad rakhya ga 
amel soname
amel_soname@yahoo.com


Popular Posts