مجھے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ کتنا آرام سے یہ سوچ لیتے ہیں کہ ہم فلاں پر کسی جادوگر سے کہہ کر جادو کروا دیں گے، حالانکہ یہ کتنا سنگین گناہ ہے۔
میں کچھ احادیث کے حوالے دیتا ہوں کہ اسلام میں جادو کرنا اور کروانا دونوں حرام ہیں۔
۱. سات ہلاک کر دینے والے گناہوں سے بچو:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ سات کام کون سے ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک دامن، مومن اور بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔"
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ سات کام کون سے ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، کسی شخص کو ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک دامن، مومن اور بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔"
۲. عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے فال نکالی یا جس کے لیے فال نکالی گئی، جس نے غیب کا دعویٰ کیا یا جو غیب کا دعویٰ کرنے والے (کاہن) کے پاس گیا، یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا۔ اور جو شخص کسی نجومی کے پاس آیا اور وہ جو کچھ کہتا ہے اس کی تصدیق کر دی، تو اس نے اس شریعت کا انکار (کفر) کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔"
"وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے فال نکالی یا جس کے لیے فال نکالی گئی، جس نے غیب کا دعویٰ کیا یا جو غیب کا دعویٰ کرنے والے (کاہن) کے پاس گیا، یا جس نے جادو کیا یا جس کے لیے جادو کیا گیا۔ اور جو شخص کسی نجومی کے پاس آیا اور وہ جو کچھ کہتا ہے اس کی تصدیق کر دی، تو اس نے اس شریعت کا انکار (کفر) کیا جو محمد ﷺ پر نازل کی گئی ہے۔"
عامل سونیم سے رابطہ
اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔

No comments:
Post a Comment