Monday, May 11, 2026

جادوگروں کے درجات

السلام علیکم

 "آج کل کے دورِ جدید میں بھی اس قسم کے لوگ بے تحاشہ پائے جاتے ہیں۔ بہت سے تو چھپے ہوئے ہیں اور کافی ظاہری بھی ہیں، لیکن یہ سانپ ہیں جن کا کام لوگوں کو ڈسنا اور تکلیف ہی پہنچانا ہے۔ بہرحال، ان کے درجوں کو میں بیان کر دیتا ہوں۔

"۱) چونکہ ہر کلام کے تحت سفلی اور روحانی موکلات ہوتے ہیں اور یہ جادوگر پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ان میں سے کن موکلات کو تسخیر کرے اور اپنے زیرِ اثر لائے اور ان سے جائز و ناجائز کام کروائے۔ یہ سب کچھ جادوگر کی اپنی ذاتی محنت، خود اعتمادی، قوتِ ارادی اور کسی کامل استاد کی زیرِ نگرانی مشقت پر منحصر ہے۔
"ایسا جادوگر جو ارواحِ خبیثہ کو مسخر کر کے اپنے کام میں لاتا ہے، یہ ارواحِ خبیثہ جادوگر کے حکم پر کسی کے گھر، مقام یا کسی بھی جگہ پر اپنا ڈیرہ جما لیتی ہیں اور اس جگہ کے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچاتی ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اس جادوگر کے کہنے پر (ان کو) تنگ اور پریشان کرتے ہیں، اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے ہیں اور ان سے جادوگر اپنا کام کرواتا ہے۔ چونکہ ارواحِ خبیثہ غیر مرئی مخلوق ہیں اور یہ سوائے ایک زبردست جادوگر کے کسی کو نظر بھی نہیں آتیں، اس لیے انسان ان کے ہاتھوں بے حد پریشان ہوتا ہے اور اس کی سمجھ میں یہ بات ٹھیک طور پر نہیں آتی کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے، کہ میرے ساتھ بلاوجہ اور کسی بھی ظاہری علامت کے کیا ہو رہا ہے؟ ارواحِ خبیثہ کا کام ہر معاملے کو الٹ پلٹ کرنا، کھانے پینے کی اشیاء کو ناپاک کرنا اور اس میں گندگی ملانا، گھر میں بدبو، خون کے چھینٹے اور پلیدی پھیلانا، اور ہر وہ کام کرنا ہے جو شرعی طور پر غلط ہو۔"
"اگرچہ یہ ارواحِ خبیثہ مسخر ہونے میں جادوگر کو بے حد پریشان اور مشکلات سے دوچار کرتی ہیں، لیکن اگر اس جادوگر کا استاد بہت ہی بڑا کامل جادوگر ہو تو پھر ان مشکلات پر وہ حاوی ہو کر ان کو مسخر کر لیتا ہے اور پھر ان سے اپنی مرضی کا کام لیتا جاتا ہے۔ لیکن ایسے جادوگروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ اس مخلوق کو مسخر کرنے والا جادوگر اکثر ان سے دنیوی کاموں میں مدد لیتا ہے کیونکہ دینی کاموں سے اس مخلوق کو نفرت اور چِڑ آتی ہے اور یہ اس سے کوسوں دور خود بھی بھاگتی ہے، اس لیے اپنے جادوگر کو بھی اس سے کنارہ کشی کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر جادوگر اس مخلوق کو حکم بھی دے کہ دینی کام کرو تو یہ صاف منع کر دیتی ہیں۔ اس مخلوق کا جادوگر اکثر گندی جگہوں پر اپنا بسیرا کرتا ہے۔ اگر یہ جادوگر کسی کے خلاف ہو جائے تو اس کا جینا حرام کر دیتا ہے، اس مخلوق کے ذریعے اس کو نقصان پہنچاتا ہے، میاں بیوی میں نفرت اور دراڑ ڈال دیتا ہے، ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیتا ہے، گندے اور برے کاموں کی طرف راغب کرتا ہے، گھر کا نظام الٹ دیتا ہے، بچوں کو والدین سے باغی کر دیتا ہے، کاروبار میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے اور انسان عجیب قسم کی وحشت، دہشت اور انجانے خوف سے دوچار رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ ان خرابیوں کی وجہ جلد سمجھ میں نہیں آتی اور اگر آ بھی جائے تو کسی سادہ عامل کے بس میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس کا توڑ کسی کامل روحانی معالج کے ہاتھ سے ہوتا ہے جس کے پاس موکلات ہوں۔ جب اس مخلوق پر قرآنی کوڑا پوری زور سے پڑتا ہے تو یہ مخلوق اس جگہ کو چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے اور پھر اپنے جادوگر کے حکم کی نہ صرف خلاف ورزی کرتی ہے بلکہ اپنی جان کو پہنچنے والی اذیتوں کا بدلہ بھی اس جادوگر سے لیتی ہے اور بعض اوقات اس جادوگر کی جان لے کر ہی اس کا پیچھا چھوڑتی ہے۔ بہرحال، ایسی اشیاء کا علاج کسی بہت ہی ماہرانہ ہاتھوں سے کرانا چاہیے۔"
"۲۔ ان کے بعد ایسے جادوگروں کا گروہ آتا ہے جو پہلے سے کمتر درجے کا ہوتا ہے، اگرچہ انہوں نے بھی ارواحِ خبیثہ اور سفلی علم کا فن حاصل کیا ہوتا ہے لیکن ان کے نفس میں کسی بھی کام کو بغیر لالچ کے کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ اکثر ایسے جادوگر ہندوانہ دعوت پڑھتے ہیں اور ہنومان، کالکا دیوی اور نہ جانے کون کون سے دیوی دیوتاؤں کو تسخیر کر کے اپنا کام چلاتے ہیں۔ ان کے کاموں میں مسان ڈالنا اور میعادی کام کروانا ہوتا ہے۔ یہ جادوگر ایسی بد روح کو انسان پر مسلط کر دیتا ہے اور اس کی میعاد کے اندر اندر وہ روح اپنا کام کر کے واپس جادوگر کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ ان ارواح سے کسی کا ہنستا بستا گھر اجاڑا جاتا ہے۔
۳۔ اس کے بعد ایسے جادوگروں کا گروہ آتا ہے جو اپنے کلام کے تحت مذبح خانوں اور قربان گاہوں پر عمل کرتے ہیں اور ایسی مخلوق کو زیرِ علم کر لیتے ہیں جو ان سے سفلی عمل کا کام لیتی ہے۔ ایسی مخلوق جادوگر کے کہنے پر گھر میں خون کے چھینٹے لگاتی ہے، افرادِ خانہ کو اذیت اور تکلیف دیتی ہے اور ان کو ہر وقت ایک خاص قسم کے انجانے خوف اور ڈر سے دوچار کرتی ہے اور گھر کا سکون برباد کرتی ہے اور اس طرح انسان ہر وقت پریشان رہتا ہے۔ ایسا عامل بڑے سے بڑا برا کام کرتا ہے، ان کے ہاتھوں سے نہ ان کے ماں باپ اور نہ ہی بہن بھائی بچتے ہیں۔
"۴۔ ایسا جادوگر جس نے شوقیہ طور پر چھوٹے موٹے جنتر سیکھ رکھے ہوں اور ان کے تحت چھوٹے موٹے جن قابو میں ہوں اور ان جنوں کے ذریعے لوگوں کے رزق کو باندھتے ہیں، عورت اور مرد کو بانجھ کرتے ہیں، نکاح بند کرتے ہیں اور رکاوٹ ڈالتے ہیں اور بہت نقصان پہنچاتے ہیں۔
۵۔ ایک اس طرح کا جادوگر ہوتا ہے جو جنات و شیاطین کی تسخیر کرتا ہے۔ یہ آسان عمل ہے جس کے تحت جناتوں کے بادشاہ آسان شرائط پر ان کے قابو آ جاتے ہیں اور پھر یہ ان جنات و شیاطین سے اپنی مرضی کے کام کرواتے ہیں۔ ان میں ہنومان، کالی ماتا، بھیرو، لونا چماری اور مختلف دیوی دیوتاؤں کے عمل کیے جاتے ہیں اور ان سے مختلف کام لیے جاتے ہیں۔
۶۔ سب سے بڑے جادوگر کلدانی جادو کے ماہر ہوتے ہیں۔ ایسا جادوگر پوری دنیا میں بہت ہی مشکل سے ملتا ہے۔ بڑے جادوگر اکثر ان سے بڑے بڑے کام جادو سے لیتے ہیں جس سے انسانیت کو انتہائی شرمناک حالات سے گزرنا پڑتا ہے اور ایسا انسان ہر وقت بیزار اور موت کا طلبگار رہتا ہے۔ ان میں سے اکثر کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح سانپ کا ڈسا بچ نہیں سکتا اسی طرح ان کا ڈسا ہوا بھی نہیں بچ سکتا۔ اگر ان کے کیے ہوئے عمل کا کسی اللہ کے کامل یا درویش سے توڑ نہ کرایا جائے تو انسان با مشکل ہی ان کے جادو سے بچ سکتا ہے۔ اگر یہ جادوگر کسی کے پیچھے پڑ جائے تو اچھے بھلے انسان کی پوری زندگی تباہ و برباد کر دیتا ہے۔"
"۷۔ ایک ایسا جادوگر ہوتا ہے جو چڑیل/ڈائن کی تسخیر کرتا ہے۔ چڑیل کو قابو کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ جب یہ آتی ہے تو اپنی بہت سے ناجائز اور حرام باتیں منوا کر ہی قابو آتی ہے۔ اس کے لیے ایسے جادوگر کو کئی معصوم بچوں کا قتل کر کے ان کا خون، دل اور کلیجہ اس کے حوالے کرنا ہوتا ہے اور ایک بار قابو ہونے کے بعد بھی اگر اس کی مطلوبہ قربانی پیش نہ کی جائے تو یہ جادوگر کا کام کرنے پر راضی نہیں ہوتی۔ اس کی صورت و شکل انتہائی بھیانک، لمبے لمبے بال جو ہر وقت اس کے منہ پر پڑے رہتے ہیں اور لمبے لمبے ناخن ہوتے ہیں اور اس کے پاؤں الٹی طرف ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ اسے 'پچھل پیری' کہتے ہیں۔
۸) ایک جادوگر اس طرح کا ہوتا ہے جو پرندوں یا کوئی بھی جانور، جنوں کی طرف سے بتائی گئی خاص شکل و صورت کے مطابق منگواتا ہے اور اس کا رنگ عام طور پر سیاہ ہوتا ہے کیونکہ جن سیاہ رنگ کو دوسرے رنگوں پر فوقیت دیتے ہیں۔ پھر وہ اسے بسم اللہ پڑھے بغیر ذبح کر دیتا ہے اور اس کا خون مریض کے جسم پر ملتا ہے اور پھر اس کو کھنڈرات یا کنویں یا غیر آباد جگہ پر پھینک دیتا ہے۔ چونکہ جنوں کا گھر غیر آباد جگہوں پر ہوتا ہے، جب یہ پھینکتا ہے تو بغیر بسم اللہ پڑھے پھینکتا ہے اور اپنے گھر چلا جاتا ہے اور پھر شرکیہ تعویذ لکھ کر جنوں کو احکام جاری کر دیتا ہے۔
"۹۔ یہ طریقہ جادوگروں میں انتہائی گھٹیا طریقہ ہے اور یہ بہت مشہور ہے۔ اس کے احکام پر عمل کرنے والوں کی شیطانوں کا ایک بہت بڑا گروہ مدد کرتا ہے۔ جادوگروں پر اللہ کی کروڑوں لعنتیں ہوں، (اللہ معاف فرمائے) وہ قرآن مجید کو جوتا بنا کر اپنے قدموں میں پہن لیتا ہے، پھر بیت الخلا میں جا کر کفریہ منتر پڑھتا ہے اور پھر باہر آ کر اپنے کمرے میں بیٹھ جاتا ہے اور جنوں کو احکام جاری کرتا ہے۔ چنانچہ جن بہت جلد اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اس کے حکم کو فوراً بجا لاتے ہیں، کیونکہ یہ کام کر کے جادوگر کافر بن چکا ہوتا ہے، اس لیے شیطان کا بھائی کافر ہے اور بھلا شیطان کافر کی کیوں نہ مدد کرے؟
۱۰۔ ایک اس طرح کا جادوگر ہوتا ہے جو قرآن مجید کی کوئی سورت (نعوذ باللہ) حیض کے خون یا کسی اور ناپاک چیز سے لکھتا ہے اور پھر شرکیہ منتر پڑھتا ہے، اس طرح جنوں کو اپنی فرمانبرداری کے لیے حاضر کر لیتا ہے اور جو چاہتا ہے انہیں حکم دیتا ہے۔
۱۱۔ ایک اس طرح کا جادوگر ہوتا ہے جو قرآن شریف کی سورتوں کے الٹے حروف بنا کر لکھتا ہے اور پھر شرکیہ تعویذ کر کے جنوں کو حاضر کرتا ہے اور پھر ان سے من پسند کام لیتا ہے۔
۱۲۔ جادوگر ستاروں کے نظریات میں جادو کرتے ہیں۔ جادوگر ایک خاص ستارے کے طلوع ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور جب وہ طلوع ہو جاتا ہے تو پھر اس کی طرف مخاطب ہوتے ہیں، پھر جادو والا ورد پڑھتے ہیں جس میں کفریہ شرائط موجود ہوتی ہیں۔ پھر چند ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ اس کے خیال کے مطابق ان حرکتوں سے اس ستارے کی برکات اس پر نازل ہوتی ہیں، حالانکہ وہ دراصل اس ستارے کی پوجا کر رہا ہوتا ہے۔ جب وہ غیر اللہ کی پوجا کرتا ہے تو شیطان اس کے کام کے لیے لبیک کہتا ہے اور جادوگر یہ سمجھتا ہے کہ اس ستارے نے میری مدد کی ہے، حالانکہ ستارے کو تو اس کی کسی حرکت کا علم ہی نہیں ہوتا۔
۱۳۔ جادوگر وہ ہوتا ہے جو (غلاظت) کھاتا ہے اور پیشاب پیتا ہے تاکہ اس کے جنتر منتر کام کریں اور وہ ہر وقت ناپاک رہتا ہے اور کفریہ کام کرتا ہے۔ اس طرح کا جادوگر پلیدی جادو کرنے کا ماہر ہوتا ہے۔ اگر کوئی اچھا بھلا شخص اپنی ترقی وغیرہ کے لیے یا کسی اور وجہ سے (جائز) عمل کر رہا ہو تو یہ اس پر پلیدی عمل کر دیتا ہے۔ اس طرح یہ لوگوں کو اپنے گندے جادو سے ناپاک کر دیتا ہے، پھر اگر لوگ قرآن سے جادو کاٹنا بھی چاہیں تو جادو نہیں کٹتا کیونکہ قرآن پاکی میں کام کرتا ہے، قرآن ہرگز ناپاکی میں کام نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص ناپاک ہو اور وہ یہ چاہے کہ قرآن کی کسی سورت سے فائدہ اٹھا لے تو ہرگز قرآن کی سورتیں اس کو فائدہ نہیں دیں گی۔ اس وجہ سے لوگوں نے یہ بات بہت عام کر دی ہے کہ جادو قرآن سے نہیں کٹتا، اصل میں لوگوں کو اصل وجہ معلوم ہی نہیں ہے کہ قرآن کیوں ایسے لوگوں پر کام نہیں کرتا اور کیوں ان کا جادو نہیں کٹتا۔ اور بھی بہت طرح کے جادوگروں کی اقسام ہیں۔ جادوگر اس طرح کے کام چھپ چھپ کر کرتے ہیں اس لیے لوگوں کو اور دنیا کو ان کے بارے میں ٹھیک طرح سے پتا نہیں ہے۔ مجھے جتنا پتا تھا سو میں نے لکھ دیا۔

         عامل سونیم سے رابطہ

اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔

dua main yaad rakhya ga 
amel soname
amel_soname@yahoo.com



No comments:

Post a Comment

Popular Posts