
سب
سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ایک کامل عامل یا جادوگر، جس کے پاس
بھرپور علم ہو، وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ چھوٹے درجے کا عامل صرف وہی کرتا ہے
جو اس کے علم میں ہو یا جو اس کے استاد نے سکھایا ہو۔
عاملین کے مختلف درجات اور اقسام درج ذیل ہیں:
- قرآنی عامل: وہ جو صرف قرآن پاک کی سورتوں اور عزیمتوں کے ذریعے عمل کرتے ہیں۔
- ذاکر: وہ عامل جو اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں (اسمائے حسنیٰ) سے کام لیتے ہیں۔
- اہلِ نقوش: وہ جو تعویذات اور نقوش کے علم سے کام لیتے ہیں، یہ ایک بہت بڑا علم ہے۔
- اہلِ جفر: وہ جو علمِ جفر کے ماہر ہوتے ہیں۔
- اہلِ اعداد: وہ جنہیں اعداد کے علم پر عبور حاصل ہوتا ہے۔
- ماہرِ نجوم (علمِ نجوم): وہ جو ستاروں کی چال اور برجوں سے کام لیتے ہیں۔ ان کا وار خالی نہیں جاتا اور یہ ستاروں کی حرکت سے آنے والے خطرات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ تاہم، یہ صرف 'اندیشہ' ظاہر کر سکتے ہیں، 100 فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ جو لوگ ستاروں کے حال پر بہت زیادہ یقین رکھتے ہیں یا عاملوں سے انعامی بانڈ کے نمبر مانگتے ہیں، وہ سب فضول ہے۔ ہوتا وہی ہے جو اللہ کا حکم ہو۔ سچے عامل ستاروں کے سعد اور نحس (اچھے اور برے) وقت کو دیکھ کر خیر یا شر کے نقوش تیار کرتے ہیں۔ عامل بننے کے لیے نجوم کی تھوڑی بہت پہچان ہونا پہلی سیڑھی ہے۔
- عاملِ ہمزاد: وہ جو صرف اپنے ہمزاد کو قابو کر کے اس سے کام لیتا ہے اور خود کوئی عمل نہیں کرتا۔
- عاملِ ارواح و موکلات: یہ عامل جنات، پریوں، دیو اور موکلات کو قابو کرتے ہیں۔ موکل کو قابو کرنا نہایت مشکل کام ہے، جس کے لیے پرہیز (ترکِ جلالی و جمالی)، روزے اور پاکیزگی ضروری ہے۔ موکلات کے بادشاہ سے معاہدہ ہونے کے بعد عامل کو مددگار موکل ملتے ہیں۔ یہ عامل بہت طاقتور ہوتا ہے۔ ایک جادوگر اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ موکل جنات کو جلانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اگر جادوگر کے پاس جنات کا بادشاہ بھی ہو، تب بھی وہ موکل والے عامل کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
- اولیاء اللہ اور بزرگ (اعلیٰ ترین درجہ): یہ عاملوں میں سب سے افضل ہیں۔ ان کے پاس 'موکلِ قدسی' خود بخود ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جو دنیا سے بے غرض اور صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہو جاتی ہیں۔ جیسے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، خواجہ غریب نوازؒ اور دیگر بزرگانِ دین۔ جنات ان کے پاس علم سیکھنے آتے ہیں اور اپنی فریاد لاتے ہیں۔ ان کا تعلق براہِ راست اللہ سے ہوتا ہے، ان کی زبان سے نکلی بات پوری ہوتی ہے۔ انہیں آنے والے حالات (زلزلے، بحران وغیرہ) کا پہلے سے علم ہوتا ہے لیکن وہ اللہ کے راز فاش نہیں کرتے۔
جب
کوئی بڑا جادوگر یا طاقتور جن قابو میں نہ آ رہا ہو، تو ان بزرگوں سے مدد
مانگی جاتی ہے۔ اگر بزرگ دنیا سے پردہ فرما چکے ہوں تو ان کے مزارات پر جا
کر توسل کیا جاتا ہے۔ ان کی روحانی طاقت کے سامنے بڑے سے بڑے جادوگر کے
جنات ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور جادوگر عبرت کا نشان بن جاتا ہے؛ یا تو وہ
پاگل ہو جاتا ہے یا شدید بیماری میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے۔
عامل سونیم سے رابطہ
اگر آپ کو کوئی بھی سوال کرنا ہو تو مجھ سے براہِ راست رابطہ کریں۔ اس ای میل کے علاوہ ہماری کوئی اور دوسری کسی بھی قسم کی ہیلپ سپورٹ (مدد) موجود نہیں ہے۔
No comments:
Post a Comment